واسطے  حضرت  مرادِ  نیک  نام      عشق  اپنا  دے  مجھے  رب  الانعام        اپنی  الفت  سے  عطا  کر  سوز  و  ساز       اپنے  عرفاں  کے  سکھا  راز  و  نیاز      فضلِ  رحمن  فضل  تیرا  ہر  گھڑی  درکار  ہے         فضلِ  رحمن  فضل  تیرا  ہو  تو    بیڑا  پار  ہے    

    

حضرت  محمد مراد علی خاں رحمتہ  اللہ  علیہ 

 حضرت شیخ احمدعارف ردولوی

رحمتہ اللہ علیہ

آپ حضرت شیخ احمد  عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ  کے فرزند ارجمند اور خلیفہ اعظم تھے ۔ حضرت شیخ احمد  عبدالحق  رحمتہ اللہ علیہ  کی ظاہری حیات کے بعد مسند ارشاد پر بیٹھے اور ہزاروں طا لبان حق کی راہنمائی فرمائی۔

معارج الولایت کے مصنف نے لکھا ہے کہ حضرت  شیخ احمد عبدالحق   رحمتہ اللہ علیہ  کے جو بھی اولاد ہوتی تھی وہ زندہ نہ رہتی تھی۔ جو بھی بچہ پیدا ہوتا تھا حق حق کرکے فوت ہوجاتا تھا۔ آخر کار آپ رحمتہ اللہ علیہ  کی بیوی نے آپ رحمتہ اللہ علیہ  سے ہی شکایت کی کہ کیا وجہ ہے کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے فوت ہوجاتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے فرمایا میرے حلب میں صرف ایک ایسا بیٹا ہے جو زندہ رہے گا مگر ابھی تک اس کی پیدائش کا وقت نہیں آیا میں ایک سفر پر جارہا ہوں واپس آکر تمہیں بتاؤں گا۔

چنانچہ جب حضرت شیخ احمد  عبدالحق   رحمتہ اللہ علیہ سفر سے واپس آئے تو اس سفر کے تقریباً ایک سال بعد اللہ تعالٰی نے آپ رحمتہ اللہ علیہ  کو ایک بیٹا عطا کیا جس کا نام آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے عارف رکھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ اسے کچھ نہ کہنا اور اللہ کی رضا پر قناعت کرنا یہ لڑکا بڑا ہوکر  ظاہری اور باطنی علوم کا یگانہ روزگار ہوگا اور اسی سے فیض جاری ہوگا۔

حضرت شیخ احمد عارف رحمتہ اللہ علیہ  جب جوان ہوئے تو حضرت شیخ عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ  نے ایک مناسب گھرانہ دیکھ کر رشتہ بھجوادیا۔ اس گھرانے کی منظوری ملتے ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ  مکمل تیاری کے ساتھ وہاں جا پہنچے اور فرمایا کہ ہم عقد کے لئے حاضر ہوئے ہیں بس اللہ کا نام لے کر نکاح پڑھوادیں۔ اس گھرانے کے سربراہ شیخ نورالدین کے ایک رشتہ دار قاضی ثمن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہم اپنی بیٹی کوکبھی بھی درویشوں کے حوالے نہیں کرینگے کیونکہ ان  کے مزاج کا ہی کچھ علم نہیں ہوتا۔

چنانچہ لڑکی والوں نے بہانہ بنایا اور کہا کہ ابھی ہم نے شادی کی تیاری نہیں کی اس لئے ابھی شادی نہیں ہوسکتی۔ یہ سن کر شیخ عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ  ناامید ہوکر واپس خانقاہ لوٹ آئے۔ اس کے تھوڑے عرصے بعد قاضی سمن کسی بیماری میں گرگیا اور لوگ اسے اٹھا کر آپ رحمتہ اللہ علیہ  کی خانقاہ میں لے آئے۔ قاضی سمن نے آپ رحمتہ اللہ علیہ  سے معافی کی درخواست کی آپ رحمتہ اللہ علیہ  نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے تم شادی تک تندرست ہوجاؤگے۔ چنانچہ شیخ احمد عارف رحمتہ اللہ علیہ  کی شادی ہوگئی لیکن شادی کے بعد قاضی ثمن زندہ نہ بچا اور انتقال کرگیا۔

حضرت شیخ احمد عارف رحمتہ اللہ علیہ  چالیس سال کی عمر میں ۸۵۹ہجری کو اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔